Urdu Poetry
A curated collection of timeless verses.
Poem #1
ایک نہ ایک دن حاصل کر ہی لیں گے منزل ٹھوکریں زہر تو نہیں جو کھا کر مر جائیں
Poem #2
میرے انتظار کی راحت ہو تم میرے دل کی چاہت ہو تم تم ہو تو یہ دنیا ہے میں کیسے بتاؤں کہ میرے لیے کیا ہو تم چھو کر جو گزر جائے وہ ہوا ہو تم میں نے جو مانگی وہ دعا ہو تم پھولوں میں چھلکتا جام ہو تم میری زندگی کا دوسرا نام ہو تم
Poem #3
یہ منزلیں ۔۔۔۔۔۔ یہ راستے ۔۔۔۔۔۔ میری ہر دعا ۔۔۔۔۔ تیرے واسطے ۔۔۔ یہ سکون ۔۔۔۔۔۔ یہ قرار بھی ۔۔۔۔۔۔۔ میرا مان ۔۔۔۔ تیرے واسطے ۔۔۔۔۔۔ کھبی غم نہ تیرے قریب ہو ۔۔۔۔۔ تجھے ہر خوشی نصیب ہو ۔۔۔۔۔ میری التجا تیرے واسطے ۔۔۔۔۔ میری ہر دعا ۔۔۔ تیرے واسطے ۔۔
Poem #4
قطعہ 1 تیری beautiful سی صورت نے میرا simple سا Dil توڑ دیا. جس Day سے you کو دیکھا ہے اس Night سے sleeping چھوڑ دیا. قطعہ 2 جب Thought تمہاری آتی ہے دل Blood کے آنسو روتا ہے. یہ ظالم People کیا جانے Love میں What what ہوتا ہے
Poem #5
چھوڑ کر مجھے اس بھری جوانی میں کیا ملا ممتاز آپ کو اپنی کہانی میں
Poem #6
پتا تھا دور کر دو گے غموں سے چور کر دو گے فلک پر جو ستارے ہیں اُنہیں بے نور کر دو گے مجھے اِتنا رلا کر تم بہت مشہور کر دو گے محبت زخم گہرا ہے اُسے ناسور کر دو گے صنم ! زخموں کو مہکا کر اُنہیں پُر نور کر دو گے عنایت گَر رہی یوں ہی مجھے مغرور کر دو گے تمہِیں لہرا کے یہ آنچل فضا مسحور کر دو گے
Poem #7
میری آنکھوں میں اس کا چہرہ ہے جس کا میرے دن رات پر پہرہ ہے کتنا ہی دور کیوں نہ بیٹھا ہو وہ شخص اس سے میرا رشتہ اتنا ہی گہرا ہے اور کتنے ہی آئے چلے گئے مگر وہ شخص پہلا اور آخری ٹھہرا ہے
Poem #8
کیا فرق پڑتا ہے نومبر اور دسمبر کا یار ہی نکلا دھوکے باز ایک نمبر کا
Poem #9
ترس جاؤ گے تم محفل وفا کے لیے کسی سے اتنا پیار نہ کرو خدا کے لیے جب لگے گی عشق کی عدالت تم ہی چنے جاؤ گے سزا کے لیے
Poem #10
بس ایک چھوٹی سی ہاں کر دو... ہمارے نام اس طرح جہاں کر دو... وہ محبتیں جو تمہارے دل میں ہیں زباں پر لاؤ اور بیاں کر دو...
Poem #11
میری زندگی کی وہ شام حسین ہوجائے جب میں تمہیں مانگوں اور ہر طرف سے آمین ہوجائے
Poem #12
کاش تو ایک چاند اور میں ایک ستارہ ہوتا فلک پہ ایک آشیانہ ہمارا ہوتا دور سے لوگ تجھے دیکھتے مگر قریب سے دیکھنے کا حق صرف ہمارا ہوتا
Poem #13
اپنی ملاقات کچھ ادھوری سی لگتی ہے پاس ہو کر بھی اک دوری سی لگتی ہے ہونٹوں پر مسکان اور آنکھوں میں نمی سی لگتی ہے زندگی میں پہلی بار محبت اتنی ضروری سی لگتی ہے
Poem #14
ہنستے ہنستے تو نے دنیا میں گزار دی زندگی اب نیا زیرزمین تنگ گھر کیسا لگا؟ آخرت کو بھول بیٹھا فکر دنیا کے عوض موت کا حملہ اچانک بے خبر کیسا لگا؟
Poem #15
نہ کر غرور تو اپنی اس حسین زندگی پہ تیری ہی زندگی کا اک دن ہوگا نہ بستر ہو گا نہ سرہانہ ہوگا قبرستان کے اک کونے میں تو پڑا ہوگا
Poem #16
میرا ہر دن تیری ہر رات سے اچھا ہوگا میرا ہر لفظ تیری ہر بات سے اچھا ہوگا یقین نہ آئے تو آزما لینا میرا جنازہ بھی تیری بارات سے اچھا ہوگا
Poem #17
جاؤ گے جب تم قبر میں کچھ بھی نہیں پاس ہوگا دو گز کفن کا کپڑا تیرا لباس ہو گا
Poem #18
عشق کیا ہوتا ہے لوگوں کو سکھائیں گے تم صرف دینا ساتھ، نکاح کر کے بتائیں گے
Poem #19
کاغذ پر نہیں لکھتے ہم راز اپنی محبت کے...! پل بھر میں بکھر جاتے ہیں الفاظ محبت کے...! تجھے ٹوٹ کر چاہا ہے اور عمر بھر چاہیں گے...! ایسے ہی ہیں جاناں ہمارے انداز محبت کے.
Poem #20
میری محبت کو تم کیا آزماؤ گے جان سے زیادہ اور کیا مانگ پاؤ گے میری محبت تو ان ستاروں جیسی ہے کیا تم ان ستاروں کو گن پاؤ گے
Poem #21
تم کیا جانو محبت کی "م" کا مطلب مل جائے تو "معجزہ" نہ ملے تو "موت" تم کیا جانو محبت کے "ح" کا مطلب مل جائے تو "حکومت" نہ ملے تو "حسرت" تم کیا جانو محبت کے "ب" کا مطلب مل جائے تو بہادری نہ ملے تو "بلا" تم کیا جانو محبت کے "ت" کا مطلب مل جائے تو "تخت و تاج" نہ ملے تو "تنہائی"
Poem #22
محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں میرے سادہ دل تجھ کو مغرور کر دوں تیرے دل کو ملنے کی ہر وقت آرزو ہو تجھے اس قدر غم سے رنجور کر دوں مجھے زندگی دور رکھتی ہے تجھ سے جو تو پاس آئے تو اسے دور کر دوں بار بار اظہار محبت میں شرم کیسی کبھی سامنا ہو تو کرنے پر مجبور کر دوں یہ اداسیاں آخر کب تک سہیں ہم ادھر آ تجھے عشق میں چور کر دوں تو اگر سامنے ہو تو میں بے خودی میں ستاروں کو سجدے پر مجبور کر دوں
Poem #23
پیار سے بھرے سپنوں کی کتاب ہو تم رشتوں کے پھولوں میں کھلتا گلاب ہو تم کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سچا پیار نہیں ہوتا ان لوگوں کے ہر سوال کا جواب ہو تم
Poem #24
کھیل گئی تھی جو کبھی میرے جذبات سے گلاب جامن چرا لایا ہوں کل اس کی بارات سے
Poem #25
اس کے چہرے پہ اس قدر نور تھا، اس کی یاد میں ہمیں رونا منظور تھا۔ بے وفا بھی نہیں کہہ سکتے ہم اس کو، محبت تو ہم نے کی تھی، وہ تو بےقصور تھا۔
Poem #26
ایسا نہیں کرتے !!! ہزاروں پل تمہارے بن، نہ پوچھو کیسے کٹتے ہیں.. کبھی یادیں رلاتی ہیں، کبھی موسم ستاتے ہیں، اسے کہہ دو، ہم آئے ہیں.. ہمیں مایوس نہ کرنا، ہمارا مان رکھ لینا، ہمیں واپس نہیں جانا، ہمیں دل میں بسا لینا، ہمیں اپنا بنا لینا، بہت تڑپے ہوئے دل سے.. بہت روٹھا نہیں کرتے، محبت تو عبادت ہے، اسے رسوا نہیں کرتے، زمانے سے چھپاتے ہیں، کبھی چرچا نہیں کرتے، سنو، ایسا نہیں کرتے۔۔۔ دل، توڑا نہیں کرتے۔۔۔
Poem #27
آنکھ جو آج پھر تری نم ہے یہ میں ہوں یا کوئی نیا غم ہے زخم اب تک ہیں کیوں ہرے تیرے تم تو کہتے تھے وقت مرہم ہے عمر تھوڑی ہے اس مسافت کو فاصلہ دو قدم سے گو کم ہے بعد مدت پتہ لگا, تم تھے میں تو سمجھا کہ جو گیا دم ہے تم جو ہوتے تو پھر دوا بنتے اب یہاں کون ابنِ مریم ہے مہرباں تھی حیات تیرے تک بعد تیرے وہ مجھ پہ برہم ہے
Poem #28
دل کا زخم کبھی دکھایا نہیں جاتا غم کا قصہ ہر بار سنایا نہیں جاتا تم میرے چہرے کو جی بھر کے دیکھ لینا کیونکہ بار بار کفن ہٹایا نہیں جاتا
Poem #29
وہ تعلق جو ہر حال میں اہم تھا اب لگتا ہے صرف دل کا وہم تھا
Poem #30
"تجھ سے فریب کھا کے بہت خوش ہوئے ہیں ہم.! اتنے حسین شخص سے کچھ تو ملا ہمیں-!
Poem #31
بھلا بیٹھے ہو ہم کو آج لیکن یہ سمجھ لینا بہت پچھتاؤ گے تم جب ہمارا وقت آئیگا
Poem #32
وقت رخصت آ گیا، دل پھر بھی گھبرایا نہیں اس کو ہم کیا کھوئیں گے جس کو کبھی پایا نہیں زندگی جتنی بھی ہے اب مستقل صحرا میں ہے اور اس صحرا میں تیرا دور تک سایہ نہیں
Poem #33
مت جانا ہم سے دور اتنا کہ وقت کے فیصلے پر افسوس ہو کیا پتا پھر کبھی تم لوٹ کر آؤ تو یہ جسم مٹی میں خاموش ہو
Poem #34
خود کو اتنا بھی مت بچایا کر بارشیں ہوں تو بھیگ جایا کر کام لے ان حسین ہونٹوں سے باتوں باتوں میں مسکرایا کر چاند لاکر کوئی نہیں دے گا اپنے چہرے سے جگمگایا کر کون کہتا ہے دل ملانے کو کم سے کم آنکھ تو ملایا کر
Poem #35
عشق میں میرا ٹوٹنا ضروری تھا کانچ کا دل تھا اور محبت پتھر سے کی
Poem #36
نہ ظاہر اپنے دکھ کرنا نہ درد اپنے عیاں کرنا نہ اپنے زخم دکھلانا نہ غم اپنے بیان کرنا مثال راز دانش زندگی رکھنا ہمیشہ تم خدا کی ذات پہ کامل یقین رکھنا تو فقط امید ہی جز نہ لگی رکھنا ہمیشہ تم
Poem #37
ہائے افسوس انہی ہاتھوں سے مارا گیا میں واسطے جن کے کبھی چوڑیاں خریدی تھیں
Poem #38
حلق میں ہاتھ ڈال کر کلیجہ نکال دوں اب لفظ "محبت" کی حمایت تو کرے کوئی
Poem #39
رو رہا ہوں ایک مدت سے عشق ہو گیا تھا شدت سے تجربہ ہے تبھی تو کہہ رہا ہوں موت بہتر ہے محبت سے
Poem #40
بہت سے الفاظ ہیں مجھ میں خوبصورت لیکن کتابوں کی طرح میں اکثر خاموش رہتا ہوں
Poem #41
پہلی نگاہ میں ہی وہ دل میں اتر گیا پھر اس کے بعد دل میں جو کچھ تھا بکھر گیا معلوم تو کرو وہ پری زاد کون ہے آئینہ جس کو دیکھ کے اتنا نکھر گیا وہ شخص جس پہ میں نے لٹا دی ہے زندگی مہمان گھڑی بھر کا تھا جانے کدھر گیا پھر اس کے بعد کیا ہوا کیا کیا نہیں ہوا بس تم کسی کے ہو گئے اور میں بکھر گیا یہ بھی نہ دسترس میں تھا وہ بھی نہ تھا مرا قابو سے دل کبھی تو کبھی پھر جگر گیا ظالم ہے تازہ دم میں پشیمان ہوں بہت میرے لہو کے قطروں سے ظالم نکھر گیا فیصل ہے خوف خود مجھے ایسے پتا چلا دیکھا جو آئینہ تو میں خود سے ہی ڈر گیا
Poem #42
نہ میں الفاظ کا ماہر نہ میں اظہار کا ماہر نہ مجھ میں فکر افلاطون نہ مجھ میں فلسفہ کوئی بہت چھوٹی سی حسرت ہے بہت پاکیزہ چاہت ہے تمہارے روبرو آ کر میری جان باوضو ہو کر گواہ کر کے ستاروں کو گگن کے سب کناروں کو فقط اتنا سا کہنا ہے مجھے تم سے محبت ہے
Poem #43
کبھی یاد آؤں تو پوچھنا ذرا اپنی فرصت شام سے کسے عشق تھا تیری ذات سے کسے پیار تھا تیرے نام سے ذرا یاد کر کہ وہ کون تھا جو کبھی تجھے بھی عزیز تھا وہ جو جی اٹھا تیرے نام سے وہ جو مر مٹا تیرے نام پہ ہمیں بے رخی کا نہیں گلہ کہ یہی وفؤں کا ہے صلہ مگر ایسا جرم تھا کونسا کہ گئے دعا و سلام سے
Poem #44
عروج پر ہے تمہارا موسم خزاں میں تم کو خرید لیں گے بنو گے ہم سے رحم کے طالب نہ تم کو مہلت مزید دیں گے ادا کے قصے ہوئے پرانے جفا کا موسم ختم ہی سمجھو کریں گے تم سے حساب جاناں نہ تم کو مہلت مزید دیں گے وفا کے لالچ میں ہم نے خون اپنا سکھا دیا فریب مستی کے بدلے تم کو سزا بھی سن لو شدید دیں گے عروج پر ہے تمہارا موسم خزاں میں تم کو خرید لیں گے
Poem #45
اتنی خاموشی کیوں ہوتی ہے تیری آغوش میں اے قبرستان لوگ تو اپنی جان دے کر تجھے آباد کرتے ہیں
Poem #46
قبول کر مجھے میری ساری خامیوں سمیت خوبیوں پر تو میرے دشمن بھی فدا ہیں
Poem #47
نہ جواب دے نہ سوال کر مجھے چھوڑ دے میرے حال پر تجھے کیا ملے گا تو ہی بتا مجھے الجھنوں میں ڈال کر
Poem #48
منزل سے آگے منزل تلاش کر لڑکی نہ ملے تو آنٹی تلاش کر
Poem #49
چل گیا ہوگا پتہ یہ آپ کو بے وفا کہتے ہیں لڑکے آپ کو ایک ذرا سے حسن پہ اتنی اکڑ تو سمجھتی کیا ہے اپنے آپ کو مفت میں دل توڑتے ہو یا پھر، اس کام کے ملتے ہیں پیسے آپ کو
Poem #50
سُنا تھا ہم نے لوگوں سے محبت چیز ایسی ہے چھپائے چھپ نہیں سکتی دبائے دب نہیں سکتی یہ چہرے سے جھلکتی ہے یہ لہجہ میں مہکتی ہے یہ آنکھوں میں چمکتی ہے یہ راتوں کو جگاتی ہے یہ آنکھوں کو رُلاتی ہے مگر یہ سب اگر سچ ہے ! تو اے لوگو ! تمہیں اللہ سے بھلا کیسی محبت ہے، نہ چہروں سے جھلکتی ہے نہ لہجوں میں مہکتی ہے نہ آنکھوں کو رلاتی ہے نہ راتوں کو جگاتی ہے بتاؤ ! یہ تمہیں اللہ سے بھلا کیسی محبت ہے بھلا کیسی محبت ہے
Poem #51
قدر اور قبر کبھی جیتے جی نہیں ملتی مر جائیں تو قبر بھی تیار اور قدر بھی
Poem #52
زین اب تو بس یہی رہ گیا ہے پتہ اس کا ...!!! بھولی سی شکل تھی اور اچھا سا تھا نام اسکا ...!!!
Poem #53
دھیرے دھیرے سے میری زندگی میں آنا آتے ہوئے کچھ کھانے کو بھی لے آنا
Poem #54
کاش تم موت ہوتے ،تو ایک دن آتے ضرور، افسوس کی تم زندگی ہو چھوڑ کے جاؤ گے" ضرور
Poem #55
تم جو ہنستے ہو تو پھولوں کی ادا لگتے ہو اور چلتے ہو تو اک بادِ صبا لگتے ہو کچھ نہ کہنا میرے کندھے پہ جھکا کر سر کو کتنے معصوم ہو، تصویرِ وفا لگتے ہو میں نے محسوس کیا تم سے دو باتیں کر کے تم زمانے میں زمانے سے جدا لگتے ہو
Poem #56
میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اسے جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا اس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھی اس کا لہجہ شراب جیسا تھا اس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا اس کا رخ ماہتاب جیسا تھا لوگ پڑھتے تھے خدوخال اس کے وہ ادب کی کتاب جیسا تھا بولتا تھا زباں خوشبو کی لوگ سنتے تھے دھڑکنوں میں اسے میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اسے ساری آنکھیں تھیں آئینے اس کے سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ سب سے گھل مل کے اجنبی رہنا ایک دریا نما سراب تھا وہ خواب یہ ہے ، وہ حقیقت تھا یہ حقیقت ہے ، کوئی خواب تھا وہ دل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح صورتِ سایہ و سحاب تھا وہ اپنی نیندیں اس کی نذر ہوئیں میں نے پایا تھا رتجگوں میں اسے میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اسے جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا دل کے خیمے میں رات کرتا تھا رنگ پڑتے تھے آنچلوں میں اسے میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اسے یہ مگر دیر کی کہانی ہے یہ مگر دور کا فسانہ ہے اس کے، میرے ملاپ میں حائل اب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی دشتِ ہجراں کی شام جیسا ہے کیا خبر، ان دنوں وہ کیسا ہے میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اسے جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا
Poem #57
لڑکا اور لڑکی کا مقابلہ شاعری میں لڑکی کا شعر: "نہ دیکھ خوبصورت لڑکیوں کو عذاب ہوگا" "ایک دن تو بھی کسی لڑکی کا باپ ہوگا" لڑکے کا جواب "خدا کرے تیری یہ بات سچی ہو مجھے ابو کہنے والی تیری ہی بچی ہو"
Poem #58
وہ لفظوں کی ماہر تھی: مجھ سے کہنے لگی، کیا تم میری زندگی کا سورج بننا چاہو گے، میں نے کہا کیوں نہیں جان، کہنے لگی تو، پھر تم مجھ سے چودہ کروڑ چھیانے لاکھ کلومیٹر دور چلے جاؤ...!
Poem #59
دل کو دل سے جدا نہ کیجیے گا ذرا سوچ کے فیصلہ کیجیے گا اگر جی سکتے ہو آپ میرے بنا تو بے شک میری موت کی دعا کیجیے گا
Poem #60
یہ جو تیرے ہونٹوں پہ اداسی اور آنکھوں میں نمی ہے... بکری کا دودھ پیا کرو کیلشیم کی کمی ہے... ہر چیز کا ذمےدار عشق نہیں ہوتا.!!..
Poem #61
مت پوچھ میری صبر کی انتہا کہاں تک ہے تُو ستم کر لے تیری حسرت جہاں تک ہے وفا کی امید جنہیں ہوگی انہیں ہوگی ہمیں تو دیکھنا ہے تو بیوفا کہاں تک ہے
Poem #62
اک شخص میرے دل کو بھا گیا کہ میں نیند میں تھا وہ خواب میں آگیا میں دور رہتا ہوں جس عمل سے وہ پھر سے وہی سکھا رہا تھا ملتا ہے جس راہ پہ درد و غم اس راہ پہ مجھ کو چلا رہا تھا کہ مانگ رہا ہو کوئی دعا اس طرح مجھ کو بلا رہا تھا جب جاگا تو دیکھا تنہا ہوں اور اک سوچ میں گم ہوں جب خواب حقیقت بن نہیں سکتا پھر کیوں وہ شخص اس طرح کہ سپنے دکھا رہا تھا
Poem #63
ہماری شاعری پہ تو لوگ واہ واہ کرتے ہیں تو سوچو وہ کیسی ہو گی جس کی خاطر ہم شاعری کرتے ہیں
Poem #64
دل رہا نا اب کسی سے لگانے کے قابل۔۔۔ نا ہم رہے مسکرانے کے قابل۔۔۔ کسی نے اتنی بے رحمی سے توڑا ہے۔۔۔ اب زندگی رہی نا جینے کے قابل۔۔۔
Poem #65
نا روٹی آنکھیں میری, نا لب پر تر نام ہوتا, ہم تیری تمنا ہی کیو کرتے اگر تو کوئی عام ہوتا. ۔
Poem #66
خواب جو ٹوٹ گئے تو خواب سجائے کیسے جو ہم سے روٹھ گئے انہیں منائے کیسے ہر کوئی کہتا ہے تم ہنستے بہت ہو اب کتنا درد ہے سینے میں انہیں بتائے کیسے
Poem #67
خاموش چہرے پر ہزاروں پہرے ہوتے ہیں ہنستی آنکھوں میں بھی زخم گہرے ہوتے ہیں دل کی حالت کو جان نہ پائے کوئی کہ مسکراہٹوں کے پیچھے درد گہرے ہوتے ہیں
Poem #68
کہ جس کی باتوں سے دل سنبھلتا کہ جس کی سنگت میں دل بہلتا جس کی ہلکی سی اک جھلک بھی ہمارے دکھ کو سمیٹ دیتی فلک سے خوشیاں انڈھیل دیتی یا اس کی نازک سی مسکراہٹ ہمارے دن کی سبھی تھکاوٹ کو دور کرتی یا پھر چمکتی وہ آنکھیں اس کی ہماری ہستی کا راز ہوتیں ہمارے دکھ کا کتاب ہوتا جو ہم کو چاہتا، ہم کو پڑھتا گزرتے لمحوں کی سختیوں میں کوئی تو نازک مزاج ہوتا ! کوئی تو ہوتا
Poem #69
آشیانے کی بات کرتے ہو دل جلانے کی بات کرتے ہو ساری دنیا کے رنج و غم دے کر مسکرانے کی بات کرتے ہو ہم کو اپنی خبر نہیں یارو تم زمانے کی بات کرتے ہو ذکر میرا سنا تو چیخ کے کہا کس دیوانے کی بات کرتے ہو حادثہ تھا گزر گیا ہوگا کس کے جانے کی بات کرتے ہو
Poem #70
میں اسے دعاوں میں مانگتا رہ گیا۔ اور وہ بن مانگے کسی اور کو مل گیا۔..۔
Poem #71
چپکے سے دھڑکن میں اتر جائیں گے راہ الفت میں حد سے گزر جائیں گے آپ جو ہمیں اتنا چاہیں گے ہم تو آپ کی سانسوں میں پگھل جائیں گے
Poem #72
کسی نے خواب دکھائے تھے زندگی کے ہمیں.! کسی کے ساتھ ہمارا بھی رابطہ ہوا تھا.! یہ حال ہمارے یوں ہی نہیں بگڑے.! ہمارے ساتھ بھی محبت کا حادثہ ہوا تھا
Poem #73
یہ پیار، محبت، عشق سب دھوکا ہے.. میری طرح معصوم بن جاؤ ابھی بھی موقع ہے
Poem #74
زندگی کا ہر زخم اُس کی مہربانی ہے میری زندگی تو اک ادھوری کہانی ہے مٹا دیتا ہر درد کو مگر یہ درد ہی تو اُس کی آخری نشانی ہے
Poem #75
عروج پہ ہے تمہارا موسم، چمک رہی ہیں راتیں، خزاں کے رنگوں میں، یادوں کی ہیں باتیں. رحم کی طلب میں، بننے آئے ہیں ہم، نہ چاہو، مگر محبت کا ہوتا ہے یہی ستم.
Poem #76
تیرا نام چاند پہ لکھنے کو جی چاہتا ہے مگر... ایک تو میرا ہاتھ نہیں جاتا اور دوسرا امی نے زیادہ دور جانے سے منع کیا ہے
Poem #77
ہم نادان تھے جو اس کو خود کا ہمسفر سمجھ بیٹھے وہ چلتا میرے ساتھ تھا کسی اور کی تلاش میں
Poem #78
پاگل سی اک لڑکی تھی، راتوں جاگا کرتی تھی، وہ چاند کھلونا اسکا تھا، زمیں بچھونا اسکا تھا، بارش جو ہوتی دو پل بھی، جی بھر کے بھیگا کرتی تھی، سرد راتوں میں دیر تلک، ستاروں سے باتیں کرتی تھی، ستاروں کے اس جھرمٹ میں، اک تارے کو اپنا کہتی تھی، وہ لے کے دل میں خواب سہانے، سوچتی اسکو رہتی تھی، پر وہ یہ کیا جانے کہ، ستاروں کو ٹوٹنا ہوتا ہے، اپنوں کو روٹھنا ہوتا ہے، تارے جو ٹوٹ جا ئیں تو، دل کو بہت تڑپاتے ہیں، اپنے جو روٹھ جا ئیں تو، لوٹ کے کہاں وہ آتے ہیں
Poem #79
ایسا نہیں کسی سے محبت نہیں ہمیں پر کیا کریں کہ شوقِ وضاحت نہیں ہمیں تیرا خیال دل میں سمایا ہے اس طرح کچھ اور سوچنے کی ضرورت نہیں ہمیں غم اور خوشی تو ناز مقدر کا کھیل ہے شکوہ کسی سے کرنے کی عادت نہیں ہمیں شہناز نقوی
Poem #80
مجھے خاموش راہوں میں تیرا ساتھ چاہیے، تنہا ہے میرا ہاتھ تیرا ہاتھ چاہیے، مجھ کو میرے مقدر پر اتنا یقین تو ہے، تجھ کو بھی میرے لفظ میری بات چاہیے، میں خود اپنی شاعری کو کیا اچھا کہوں، مجھ کو تیری تعریف تیری داد چاہیے، احساسِ محبت تیرے ہی واسطے ہے لیکن، جنونِ عشق کو تیری ہر سوغات چاہیے، تو مجھ کو پانے کی خواہش رکھتا ہے شاید، لیکن مجھے جینے کے لیے تیری ہی ذات چاہیے فیض احمد فیض
Poem #81
ذرا سا صبر تھا جو کر گئے ہم اسے لگنے لگا کہ مر گئے ہیں یہ نہ قدری ہماری اسی لیے ہے تیرے ہونے میں جو جلدی کر گئے ہم
Poem #82
کہاں وفا کا صلہ دیتے ہیں لوگ۔ اب تو محبت کی بھی سزا دیتے ہیں لوگ۔ پہلے جلاتے ہیں دلوں میں چاہتوں کے چراغ اور پھر اعتبار کو آگ لگا دیتے ہیں لوگ
Poem #83
جب سے یو نے سمائل دکھائی ہے دل کی ہر بیٹ بھڑکائی ہے اب تو ہارٹ کی حالت یہ ہے کہ ہر مومنٹ ٹینشن بڑھائی ہے قطعہ 2 تمہارے میسیج کا ویٹ کرتے ہیں دل کو ہر وقت ڈیبیٹ کرتے ہیں یہ پیپل کیا جانیں آور اسٹوری ہم تو ہر وقت لو کریٹ کرتے ہیں
Poem #84
نہ دیکھ تو دنیا داری، نہ خواب دیکھ !! "پہلے اپنے اعمال دیکھ، پھر قبر کا عذاب دیکھ"
Poem #85
اسکے چہرے پہ اس قدر نور تھا، اسکی یاد میں ہمیں رونا منظور تھا. بے وفا بھی نہیں کہہ سکتے ہم اس کو، محبت تو ہم نے کی تھی، وہ تو بے قصور تھا.
Poem #86
ہر کوئی میرا ہو جائے ایسی میری تقدیر نہیں میں وہ شیشہ ہوں جس کی کوئی تصویر نہیں درد سے رشتہ ہے میرا خوشیاں مجھے نصیب نہیں مجھے بھی کوئی یاد کرے میں اتنا بھی خوش نصیب نہیں
Poem #87
بھول "جانے" کا "بہانہ" بنا "دینا" دور "جانے" کی "ایک" وجہ بتا "دینا" ہم خود ہی چلے جائیں گے آپ کی دنیا سے پر جہاں تیری "یاد نہ آئے وہ جگہ" بتا دینا
Poem #88
حقیقت میں حقیقت ہے، حقیقت کو خدا جانے... میرے دل میں تیری محبت ہے، تیرے دل کو خدا جانے...
Poem #89
مجھے پل بھر کی ہستی مت سمجھنا میری محبت کو اتنی سستی مت سمجھنا میں جلا دوں گی تمہارے لکھے خط بھی میں بھلا دوں گی تمہارے ساتھ گزارا وقت بھی میں رات کو چین سے سو بھی جاؤں گی میں زندگی میں آگے بڑھ بھی جاؤں گی تم بجھانا چاہو گے تو پیاس بن جاؤں گی گلے سے اتارو گے تو زہر بن جاؤں گی مجھے پل بھر کی ہستی مت سمجھنا میری محبت کو اتنی سستی مت سمجھنا میں سمندر بھی ہوں میں ساحل بھی، میں سہارا بھی ہوں میں قاتل بھی.. تم جو چاہو گے وہ بن سکتی ہوں میں شاعر بھی ہوں میں جاہل بھی
Poem #90
میں اسے دعاؤں میں مانگتا رہا گیا، اور وہ بن مانگے کسی اور کو مل گیا...
Poem #91
یہ زندگی کا اصول ہے جو بچھڑ گیا اسے بھول جا جو ملا ہے دل سے لگا کے رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا نہ وہ دھوپ تھا نہ وہ چاند نہ چراغ تھا نہ وہ روشنی وہ خیال تھا کوئی خواب تھا جو تھا آئینہ اسے بھول جا جو تیرے دل کے قریب تھا نہ جانے کس کا نصیب تھا مجھے ہنس کے ان سے بھلا دیا تو بھی مسکرا کے اسے بھول جا
Poem #92
جس کا انتظار ہے اسکو فکر تک نہیں، اسکی زبان پر میرا ذکر تک نہیں، محبت میں بس ایک ہی کمی ہے ایک تڑپتا ہے تو دوسرے کو قدر تک نہیں.
Poem #93
انتظارِ یار میں بھی لطفِ کمال ہے، نظریں کتاب پر اور سوچیں جناب پر...
Poem #94
بس ایک خطا ہم سے ہو گئی.. حد سے زیادہ محبت ان سے ہو گئی.. ہم نظر نہ اٹھا سکے کسی اور کی طرف.. اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری چاہت بے وفا ہو گئی..!!
Poem #95
کسی کو نفرت ہے مجھ سے اور کوئی پیار کر بیٹھا ہے کسی کو یقین نہیں مجھ پہ اور کوئی اعتبار کر بیٹھا ہے کتنی عجیب ہے ہے یہ دنیا کوئی ملنا نہیں چاہتا اور کوئی انتظار کرنے بیٹھا ہے...!!!!
Poem #96
تمہیں کبھی پورا لکھوں کبھی ادھورا لکھوں، میں راتوں میں بیٹھ کر تمہیں سویرا لکھوں...!! میں جب بھی لکھوں بس اتنا لکھوں، مجھے تیرا اور تجھے میرا لکھوں...!!
Poem #97
چاہنے والے تیرے ہزار ہوں گے، کہاں سارے تیرے وفادار ہوں گے؟، کچھ جان لینے والے ملیں گے، کچھ تیرے جان نثار ہوں گے، انا پرستوں سے پالا پڑے گا، چہرے مگر خاکسار ہوں گے، دیکھنا دشمن کی پہلی صف، سامنے تیرے یار ہوں گے..
Poem #98
"کچھ رحم کر زندگی، ذرا سنور جانے دے، تیرے سارے زخم بھی سہہ لیں گے، مگر پچھلا تو بھر جانے دے ":)
Poem #99
کوئی وعدہ نہ کر، کوئی ارادہ نہ کر، خواہشوں میں خود کو آدھا نہ کر، یہ زندگی دے گی اتنا ہی جتنا لکھا ہے خدا نے، اب اسے پانے کی ضد زیادہ نہ کر.
Poem #100
تمہیں جو ملا ہے وہ کسی نے کھویا ہوگا، جس کے ساتھ تم ہر پل مسکراتے ہو کوئی اسکے لیے رویا ہوگا، ہر کوئی ہارا ہے یہاں محبت میں، جس کے ساتھ تم یادیں بنا رہے ہو کوئی اسکی یادیں لے کر سویا ہوگا،
Poem #101
سنو ایک قصہ سناتا ہوں. تمہیں ایک سچ بتاتا ہوں. محبت کب ہوئی مجھ کو. تمہیں آغازِ چاہت میں. میری غلطی بتاتا ہوں. میں ٹوٹا دل لیے ایک دن. محبت بھول کے ایک دن. یہ سمجھا میں مکمل ہوں. اچانک ایک حسین چہرہ. نظر کے سامنے گزرا. میری آنکھوں کے رستے. وہ میرے اندر کہیں اترا. میں کیسے جان لیتا کہ. وہ میری جان لے لے گا. مجھے اس راہ پر چلنے پہ. پھر سے مجبور کر دے گا. وہ رستے کب کے بند کر کے. میں سب بھول بیٹھا تھا. محبت کے سبھی موسم. کہیں پہ چھوڑ آیا تھا. وہ چہرہ ایک دن جاتے ہوئے. کچھ اس طرح پلٹا. مجھے وہ پل نہ بھولے گا. جہاں پہ جان نکلی تھی. محبت لوٹ کے آئی. وہ رستے کھل گئے جیسے. پھر اس نے ایک دن. مجھ کو بتایا زندگی کیا ہے. میری تکمیل کی اس نے. محبت سکھا کے وہ. سمجھانے لگی مجھ کو. محبت درد ہے دل کا. یہ غلطی مت کبھی کرنا. وہ پاگل یہ نہیں سمجھی. محبت کے سبھی چہرے. خوشی کے غم کے سب لمحے. اسی کے نام پہ کرکے. یہ غلطی کر چکا ہوں میں. کہ اب تو مر چکا ہوں میں. تم پہ مر چکا ہوں میں.
Poem #102
روح میں شامل ہے فقط نس نس میں نہیں وہ ایک شخص جو میری دسترس میں نہیں حال یہی ہے جناب کہ بھول جائے اسے بس ایک یہی بات جو میرے بس میں نہیں
Poem #103
یہ محبت جو محبت سے کمائی ہوئی ہے آگ سینے میں اسی نے تو لگائی ہوئی ہے اک وہی پھول میسر نہ ہوا دامن کو جس کی خوشبو میری رگ رگ میں سمائی ہوئی ہے
Poem #104
کسی گاڑی کے شیشے کی جمی دھول پر میں اسکا اور اپنا نام لکھا کرتا ہوں کوئی دیکھ نہ لے اسی ڈر سے پھر مٹا دیا کرتا ہوں وہ مجھ سے محبّت نہیں کرنے والا یہ بات پتا ہے مجھے پھر بھی اسکا نام سنتے ہی میں مسکرا دیا کرتا ہوں
Poem #105
دشتِ طلب میں کھو گئے، رستوں میں رہ گئے دریا چلے تھے دل سے جو آنکھوں میں رہ گئے اک وقت تھا جو کھو گیا ماضی میں اب کہیں کچھ لوگ تھے جو اب مری باتوں میں رہ گئے چہرے ہیں کچھ جو سوچ سے جاتے نہیں کبھی کچھ عکس قید آئینہ خانوں میں رہ گئے کچھ زخم ہیں کہ وقت بھی بھرتا نہیں جنہیں کچھ درد ہیں کہ جم کے جو سینوں میں رہ گئے
Poem #106
نہ کوئی عشق رہا اور نہ محبت ہے تمہیں صاف ظاہر ہے کہ اب مجھ سے عداوت ہے تمہیں مسئلہ حل نہیں ہوگا کبھی خاموشی سے لب کو جنبش دو اگر کوئی شکایت ہے تمہیں میں تمہیں چھوڑ کے جاؤں، یہ نہیں ہو سکتا تم مجھے چھوڑنا چاہو تو اجازت ہے تمہیں مسکراتے ہوئے چہرے پہ اداسی کیسی ؟ کیا مری جان ! مرے ساتھ اذیت ہے تمہیں ؟ کھیلتے رہتے ہو معصوم دلوں سے اکثر کھیلنا دل سے کوئی شوق نہیں، لَت ہے تمہیں
Poem #107
تجھے عشق ہو ، خُدا کرے کوئی تُجھے اُس سے جُدا کرے تیرے لب ہنسنا بھُول جائیں اور تیری آنکھ پُرنم رہا کرے اُسے دیکھ کے تُو رُک پڑے اور وہ نظر جھُکا کے چلا کرے تجھے ہِجر کی وہ جھڑی لگے تو ملن کی ہر پل دُعا کرے تیرے خواب بِکھریں ٹُوٹ کر اسے کِرچی کِرچی چُنا کرے تو نگر نگر پھِرا کرے تو گلی گلی صدا کرے تجھے عشق ہو پھر یقین ہو اسے تسبیحوں پہ پڑھا کرے میں کہُوں کہ عشق ڈھونگ ہے اور تُو نہیں نہیں کہا کرے۔۔!